یہ کہانی ہے ایک ایسے سپوت کی جس نے ہمالیہ کے دامن میں واقع جنت نظیر وادی کشمیر میں آنکھ کھولی ۔زندگی بھر حق وسچ،جبروتشدد کے خلاف اور آزادی کی لڑائی لڑی ۔زندگی بھر سامراج کی جابرانہ چالوں کا جواں مردی سے مقابلہ کیا اور پھر اس جرم کی پاداش میں 11فروری 1984 کو تختہ دار کو چوم لیا۔اور اس لاجواب اور بے مثال قربانی کی وجہ سے آج دو کروڑ کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن اور کشمیر پر قابض سامراج کے لئے خؤف کی علامت ہے مقبول بٹ نے 18 فروری 1938 کو انڈین مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہندواڑہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں تریگام میں غلام قادر بٹ کے گھرانے میں آنکھ کھولی ۔ابتدائی تعلیم ایک لوکل سکول سے حاصل کی ۔اس کے بعد جوزف ہائیر سیکنڈری سکول بارامولہ سے ہائیر سیکنڈری اور بی اے کا امتحان ہسٹری اور پولیٹکل مضامین کے ساتھ پاس کیا جب مقبول بٹ نے ہوش سنبھالا تو یہ وقت برصغیر کی دیگر ریاستوں کی طرح کشمیر کے لئے ایک نازک مراحلہ تھا ۔زمانہ نوعمری میں مہراجہ کے جاگیرداروں نظام نے انھے زندگی کے اوائل میں ہی سامراجی طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا درس دیا تھا ...